العربية (الأصل)
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:بَعَثَنَا عُثْمَانُ فِي خَمْسِينَ رَاكِبًا، وَأَمِيرُنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى ذِي خَشَبٍ اسْتَقْبَلَنَا رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ مُصْحَفٌ، مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، تَذْرِفُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنَا أَنْ نَضْرِبَ بِهَذَا، يَعْنِي السَّيْفَ، عَلَى مَا فِي هَذَا، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ:" اجْلِسْ فَنَحْنُ قَدْ ضَرَبْنَا بِهَذَا عَلَى مَا فِي هَذَا قَبْلَكَ أَوْ قَبْلَ أَنْ تُولَدَ". قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُمْ حَتَّى رَجَعُوا. قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ وَجَدُوا كِتَابًا إِلَى ابْنِ سَعْدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
الترجمة الإنجليزية
'Umar (may Allah be pleased with him) said: "If a governor takes even a small amount unlawfully, I will hold him accountable."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا، امیر محمد بن مسلمہ تھے۔ ذی خشب پہنچے تو ایک شخص ملا، گردن میں قرآن لٹکا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے کہا:”ہم سے کہا جا رہا ہے تلوار سے قرآن پر حملہ کرو۔“محمد نے فرمایا:”بیٹھ جاؤ، ہم تم سے پہلے قرآن کے لیے تلوار اٹھا چکے۔“پھر وہ انہیں باتوں سے واپس لے گیا۔ جابر نے فرمایا:”کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ابن سعد کے نام خط ملا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4111]
