العربية (الأصل)
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَعُمَرُ،وَعَبْدُ اللَّهِ" يَجْعَلانِ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ". قَالَ: قَالَ: وَكَانَعُمَرُإِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ:" مَا كُنَّا نُجِيزُ فِي دِينِنَا شَهَادَةَ امْرَأَةٍ". قَالَ سَعِيدٌ: وَقَوْلُ عُمَرَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا.
الترجمة الإنجليزية
Ibrahim narrated that Umar and Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with them) used to grant the woman divorced three times the right to housing and maintenance. When the hadith of Fatimah bint Qays was mentioned to Umar - that the Messenger of Allah ordered her to observe her waiting period outside her husband's house - Umar said: "We do not accept in our religion the testimony of a single woman." Sa'id said: "Umar's view is dearer to us."
الترجمة الأردية
سیدنا عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم طلاقِ ثلاثہ والی عورت کے لیے نفقہ اور رہائش لازم قرار دیتے تھے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت سنتے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں شوہر کے گھر کے علاوہ عدت گزارنے کا حکم دیا تھا تو فرماتے: ہم اپنے دین میں ایک عورت کی گواہی کو قبول نہیں کرتے۔ سعید کہتے ہیں: ہمیں عمر رضی اللہ عنہ کا قول زیادہ پسند ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2538]
