العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاأَبُو شِهَابٍ، عَنِالصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنِالْحَسَنِ، قَالَ:" إِنَّ هَذَاالْقُرْآنَ قَرَأَهُ عَبِيدٌ وَصِبْيَانٌ لَمْ يَأْخُذُوهُ مِنْ أَوَّلِهِ، وَلا عِلْمَ لَهُمْ بِتَأْوِيلِهِ، إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْقُرْآنِ مَنْ رُئِيَ فِي عَمَلِهِ،" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ سورة ص آية 29، وُإِنَّمَا تَدَبُّرُ آيَاتِهِ اتِّبَاعُهُ بِعَمَلِهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَارِئْكَ، وَاللَّهِ مَا كَانَتِ الْقُرَّاءُ تَفْعَلُ هَذَا، وَاللَّهِ مَا هُمْ بِالْقُرَّاءِ، وَلا الْوَرَعَةِ، لا كَثَّرَ اللَّهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، لا كَثَّرَ اللَّهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Quran was revealed in five aspects: the lawful (halal), the prohibited (haram), the clear (muhkam), the allegorical (mutashabih), and parables. So make lawful what is lawful, make prohibited what is prohibited, act upon the clear, believe in the allegorical, and take lessons from the parables."
الترجمة الأردية
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ قرآن ایسے غلاموں اور بچوں نے پڑھا ہے جو نہ اسے اس کے آغاز سے سیکھ سکے اور نہ ہی ان کو اس کی تفسیر و تعبیر کا علم ہے۔ بلاشبہ قرآن کے سب سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جن کے عمل میں اس کی جھلک نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾[سورہ ص: 29]”یہ ایک بابرکت کتاب ہے، جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور و تدبر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں“اور اس کی آیات پر غور و تدبر کا حقیقی مطلب اس کی پیروی اور عمل کرنا ہے۔ (آج) ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے:”آؤ، میں تمہیں قرآن پڑھاؤں!“اللہ کی قسم! پہلے کے قراء (تلاوت کرنے والے) ایسا نہیں کرتے تھے، اللہ کی قسم! یہ نہ تو قراء میں سے ہیں اور نہ ہی اہلِ تقویٰ میں سے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 135]
