العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ فَقَالَ " مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ " . قُلْتُ أَعْيَا بَعِيرِي فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ثُمَّ زَجَرَهُ فَإِنْ كُنْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ " مَا فَعَلَ الْجَمَلُ بِعْنِيهِ " . قُلْتُ لاَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لاَ بَلْ بِعْنِيهِ " . قُلْتُ لاَ بَلْ هُوَ لَكَ . قَالَ " لاَ بَلْ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ ارْكَبْهُ فَإِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَائْتِنَا بِهِ " . فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ فَقَالَ لِبِلاَلٍ " يَا بِلاَلُ زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً وَزِدْهُ قِيرَاطًا " . قُلْتُ هَذَا شَىْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُفَارِقْنِي فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَأَخَذُوا مِنَّا مَا أَخَذُوا .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Jabir Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him) said: "I was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey, and I was riding a camel. He said: 'Why are you at the back of the people?, I said: 'My camel is tired, He took hold of its tail and shouted at it, then I was at the front of the people, worrying that it would go ahead of the others. When we drew close to al-Madinah he said: 'What happened to the camel? Sell it to me.' I said, No, it is yours O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).; He said, 'No, sell it tome. I said, 'No, it is yours, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' He said: 'No, sell it to me. I will take it for one Uwqiyah but you (continue to) ride it. Then when you reach Al-Madinah, bring it to us.' So when I reached Al-Madinah, I brought it him. He said to Hadrat Bilal: 'O Hadrat Bilal, weight out for him one Uwqiyyah and add a Qirat.' I said: 'This is something extra that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave to.' I kept it with me and put it in a bag, and it stayed with me until the people of Ash-Sham came on the Day of Al-Harrah and took from us what they took
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اور ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے فرمایا: تو لوگوں سے پیچھے کیوں ہے؟ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ تھک گیا ہے۔ آپ نے اس کی دم پکڑی پھر اسے ہانکا تو میں لوگوں میں سب سے آگے ہو گیا اور اس کی لگام سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: اونٹ کا کیا ہوا؟ اسے مجھے بیچ دو۔ میں نے عرض کیا: نہیں بلکہ یہ آپ کا ہے یا رسول اللہ! فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے بیچو۔ میں نے عرض کیا: نہیں بلکہ یہ آپ کا ہے۔ فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے بیچ دو۔ میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا ہے، اس پر سواری کرو اور جب مدینہ آؤ تو ہمارے پاس لے آنا۔ جب میں مدینہ پہنچا تو اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے حضرت بلال! اسے ایک اوقیہ تول کر دو اور ایک قیراط زیادہ دو۔ میں نے کہا: یہ وہ زائد رقم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی، یہ مجھ سے جدا نہ ہوگی۔ میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا اور وہ میرے پاس رہا یہاں تک کہ اہلِ شام نے واقعۂ حرّہ کے دن آ کر ہم سے جو لیا سو لیا۔
