العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ، أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ حِينَ حَصَرُوهُ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ يَوْمَ الْجَبَلِ حِينَ اهْتَزَّ فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ " اسْكُنْ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدَانِ " . وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ يَقُولُ " هَذِهِ يَدُ اللَّهِ وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ " . فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ يَقُولُ " مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً " . فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ يَزِيدُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ " . فَاشْتَرَيْتُهُ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً شَهِدَ رُومَةَ تُبَاعُ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا لاِبْنِ السَّبِيلِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that Hadrat 'Uthman looked out over them when they besieged him and (may Allah be well pleased with him) said: "By Allah, I adjure a man who heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), on the day when the mountain shook with him, and he kicked it with his foot and said: 'Be still, for there is no one upon you but a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) or a Siddiq or two martyrs,' and I was with him." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witnessed the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), on the day of Bai'at Al-Ridwan, say: 'This is the Hand of Allah and this is the hand of Hadrat 'Uthman.'" Some men responded and affirmed that. He said: "By Allah, I adjure a man who heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say, on the day of the army of Al-'Usrah (i.e. Tabuk): 'Who will spend and it will be accepted?' And I equipped half of the army from my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Who will add to this Masjid in return for a house in Paradise,' and I bought it with my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witness Rumah being sold, and I bought it from my own wealth and allowed wayfarers to use it." Some men responded and affirmed that
الترجمة الأردية
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو حضرت عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ”ٹھہرا رہ ( سکون سے رہ ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں“، ( کوئی اور نہیں ) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا ( یہ سن کر ) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ) فرمایا تھا: ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ حضرت عثمان کا“ ۱؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ ( تنگ حالی سے دوچار لشکر ) کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی ( بارگاہ الٰہی میں ) قبولیت یقینی ہے“۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بےشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد ( نبوی ) میں توسیع کرتا ہے“۔ میں نے ( یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین ) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کر دیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کر دیا تھا ( جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے ) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
