العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ " مَا بَالُ هَؤُلاَءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ أَمَا يَكْفِي أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يَقُولَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Jabir bin Samurah (may Allah be well pleased with him) said: "We used to pray behind the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and we would greet (others) with our hands. He said: 'What is the matter with those who greet (others) with their hands as if they were tails of wild horses? It is sufficient for any one of you to put his hand on his thigh and say: "As-salamu 'alaikum, as-salamu 'alaikum
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر«السلام عليكم، السلام عليكم» کہیں ۔
