العربية (الأصل)
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن(1)بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حسان بن إبراهيم الكِرْماني، حدثنا سعيد بن مسروق، عن يوسف بن أبي بُرْدة بن أبي موسى، عن أبي بُرْدة قال: أتيتُ عائشةَ فقلت: يا أُمّاه، حدِّثيني بشيء سمعتِه من رسول الله ﷺ، قالت: قال رسول الله ﷺ:"الطَّيرُ تجري بقَدَرٍ"، وكان يعجبُه الفَأْلُ الحَسَن(2). قد احتجَّ الشيخان برُواةِ هذا الحديث عن آخرهم غير يوسف بن أبي بُردة، والذي عندي أنهما لم يُهمِلاه بجَرْحٍ ولا لضعف، بل لقِلَّة حديثه فإنه عزيز الحديث جدًّا.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 89 - لم يخرجا ليوسف وهو عزير الحديث
الترجمة الإنجليزية
'A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Birds fly according to divine decree." And he (peace be upon him) used to like good omens (optimistic words). Al-Hakim noted that both al-Bukhari and Muslim used all narrators of this hadith except Yusuf ibn Abi Burdah, who was not included due to the rarity of his narrations.
الترجمة الأردية
سیدنا ابوبردہ اپنی والدہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور عرض کیا: اے امی جان! مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنی ہوئی کوئی بات سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پرندے (شگون کے طور پر) اللہ کی تقدیر ہی کے مطابق اڑتے ہیں“، اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکو نیک شگون (اچھی فال) پسند تھی۔شیخین نے یوسف بن ابی بردہ کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور میرے نزدیک انہوں نے انہیں کسی جرح یا کمزوری کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ ان کی روایات کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے کیونکہ ان کی حدیث بہت نایاب ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 89]
