العربية (الأصل)
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ قالا: حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرني نافع بن يزيد، حدثني خالد بن يزيد، أنه سمع أبا الزُّبَير المكّي يحدِّث عن جابر بن عبد الله قال: دَخَلَ النبيُّ ﷺ على بعض أهلِه وهو وَجِعٌ به الحُمَّى، فقال النبي ﷺ:"أمُّ مِلدَم؟" قالت امرأة: نعم، فَلَعَنَها الله، فقال النبي ﷺ:"لا تَلعَنِيها، فإنها تَغسِلُ - أو تُذهِبُ - ذنوبَ بني آدم كما يُذهِبُ الكِيرُ خَبَثَ الحديد"(2).هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه![التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 247 - على شرط مسلم ولا علة له
الترجمة الإنجليزية
Jabir ibn Abdullah narrated: The Prophet (peace be upon him) visited one of his family members who was ill with fever. The Prophet (peace be upon him) asked: "Is this Umm Mildam (fever)?" A woman said: "Yes, may Allah curse it!" The Prophet (peace be upon him) said: "Do not curse it, for it washes away — or removes — the sins of the children of Adam just as the bellows removes the impurities of iron." This hadith is authentic upon the condition of Muslim, and I know of no defect in it, but the two Shaykhs did not include it.
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماپنے ایک گھر والے کے پاس تشریف لے گئے جو بخار کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا یہ اُمِّ ملدم (بخار) ہے؟“ایک عورت نے کہا: جی ہاں، اللہ اس پر لعنت کرے۔ تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ بنو آدم کے گناہوں کو اس طرح دھو ڈالتا ہے (یا ختم کر دیتا ہے) جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 249]
