العربية (الأصل)
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن مسلم بن يَسَار، عن حُمْران بن أبَان، عن عثمان بن عفّان، عن عمر بن الخطّاب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إني لَأعلمُ كلمةً لا يقولُها عبدٌ حقًّا من قلبِه فيموتُ على ذلك، إلّا حُرِّم على النار: لا إلهَ إلا اللهُ"(3).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ ولا بهذا الإسناد، إنما اتَّفقا على حديث محمود بن الرَّبيع عن عِتْبان بن مالكٍ الحديثَ الطويلَ، في آخره:"وإنَّ الله قد حرَّم على النار من قال: لا إله إلَّا الله"(4). وقد خرَّجاه أيضًا من حديث شُعْبة، وبِشْر بن المفضَّل، وخالد الحذَّاء(1)، عن الوليد أبي بِشْر عن حُمْرانَ عن عثمان عن النبي ﷺ:"مَن مات وهو يعلمُ أن لا إله إلا الله، دَخَلَ الجنة"، وليس فيه ذِكرُ عمر. وله شاهدٌ بهذا الإسناد عن عثمان، ولم يُخرجاه:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 242 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Umar ibn al-Khattab narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "I know a statement which no servant says truly from his heart and then dies upon it, except that the Fire will be forbidden for him: La ilaha illallah (There is no deity except Allah)." This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it with this wording or this chain.
الترجمة الأردية
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے کوئی بھی بندہ اپنے دل کے سچے یقین کے ساتھ کہے اور اسی پر اسے موت آ جائے، تو اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی جائے گی، (اور وہ کلمہ)«لا اله الا الله»(اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ اور اس سند کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے محمود بن ربیع کی عتبان بن مالک سے مروی طویل حدیث پر اتفاق کیا ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں:”اور بے شک اللہ نے اس شخص پر آگ حرام کر دی ہے جس نے اللہ کی رضا کے لیے«لا اله الا الله»کہا۔“نیز انہوں نے اسے شعبہ، بشر بن مفضل اور خالد حذاء کی سند سے ولید ابو بشر کے واسطے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے کہ”جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گیا“، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 243]
