العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثني الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حدثنا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخَ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلى خلف رسول الله ﷺ، فلما سَلَّمَ رسولُ الله ﷺ أتى راحلته فأطلق عِقالَها، ثم رَكِبَها، ثم نادى: اللهمَّ ارحمني ومحمدًا، ولا تُشرِك في رحمتنا أحدًا، فقال رسول الله ﷺ:"ما تقولون، أهو أضَلُّ أم بعيرُه؟ ألم تسمعوا ما قال؟" قالوا: بلى، فقال:"لقد حَظَرَ رحمةً واسعةً، إِنَّ الله خلق مئةَ رحمةٍ، فَأَنزلَ رحمةً تَعَاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعةٌ وتسعون، تقولون: أهو أضَلُّ أم بعيره؟"(2).
الترجمة الإنجليزية
Jundub narrated: A Bedouin came, made his camel kneel, hobbled it, and prayed behind the Messenger of Allah (peace be upon him). When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the prayer, the Bedouin went to his camel, untied its hobble, mounted it, and called out: "O Allah, have mercy on me and Muhammad, and do not let anyone share in our mercy!" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "What do you say — is he more misguided, or his camel? Did you not hear what he said?" They said: "Yes." He said: "He has restricted a vast mercy! Indeed, Allah created one hundred mercies, and distributed one mercy among all His creation, by which they show compassion to one another, and He reserved ninety-nine mercies for Himself, with which He will show mercy to His servants on the Day of Resurrection."
الترجمة الأردية
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، اس نے اپنی سواری بٹھائی اور اسے باندھ کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحم فرما، اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (صحابہ سے) فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟“انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس نے ایک بہت ہی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، بے شک اللہ نے سو رحمتیں پیدا کیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات جنات، انسان اور چوپائے ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس (محفوظ) ہیں، اب بتاؤ کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟“[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 188]
