العربية (الأصل)
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظُ إملاءً، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا حَبيب بن الشَّهيد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا ابن أبي عَدِيّ، عن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا حُميد بن هلال، حدثنا هِصَّان بن كاهل - وفي حديث ابن أبي عدي: كاهن - قال: جلستُ مجلسًا فيه عبد الرحمن بن سَمُرة ولا أعرفه، فقال: حدثنا معاذُ بن جبل قال: قال رسول الله ﷺ:"ما على الأرض نفسٌ تموتُ لا تُشْرِكُ بالله شيئًا تشهدُ أني رسولُ الله، يَرجِعُ ذلك إلى قلبٍ مُوقِنٍ، إِلَّا غَفَرَ اللهُ لها". قال: فقلت: أأنت سمعتَ من معاذ؟ فعنَّفَني القومُ، فقال: دَعُوه، فإنه لم يُسِئ القولَ، نَعَم أنا سمعتُه من معاذ بن جبل، وزَعَمَ معاذٌ أنه سمعه من رسول الله ﷺ(2).هذا حديث صحيح وقد تداوَلَه الثقات، ولم يُخرجاه جميعًا بهذا اللفظ، والذي عندي - والله أعلم - أنهما أهمَلَاه لهِصَّان بن كاهل، ويقال: ابن كاهن، فإنَّ المعروف بالرواية عنه حُميد بن هلال العَدَوي فقط، وقد ذكر ابنُ أبي حاتم أنه روى عنه قُرَّةُ بن خالد أيضًا(1)، وقد أخرجا جميعًا عن جماعة من الثقات لا راويَ لهم إلّا واحد، فيَلزَمُهما بذلك إخراجُ مثله، والله أعلم.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 16 - هصان وثقه ابن حبان
الترجمة الإنجليزية
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "No soul on earth who dies without associating anything with Allah, and testifies that I am the Messenger of Allah — this returning to a heart filled with certainty — except that Allah will forgive him." Al-Hakim graded it sahih.
الترجمة الأردية
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”روئے زمین پر جو بھی ایسا شخص فوت ہو جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس کا دل اس پر کامل یقین رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی مغفرت فرما دے گا۔“(راوی ہصان بن کاہل کہتے ہیں کہ) میں نے پوچھا: کیا آپ نے یہ خود معاذ سے سنا ہے؟ تو وہاں موجود لوگوں نے مجھے (اس سوال پر) ڈانٹا، لیکن انہوں نے کہا: اسے چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات نہیں کہی، ہاں! میں نے اسے معاذ بن جبل سے سنا ہے، اور معاذ کا گمان تھا کہ انہوں نے اسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے۔یہ ایک صحیح حدیث ہے جسے ثقہ راویوں نے روایت کیا ہے، تاہم ان دونوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے نقل نہیں کیا، اور میرے نزدیک (واللہ اعلم) انہوں نے اسے ہصان بن کاہل (یا ابن کاہن) کی وجہ سے چھوڑا ہے، کیونکہ ان سے روایت کرنے میں صرف حمید بن ہلال العدوی ہی مشہور ہیں، تاہم ابن ابی حاتم نے ذکر کیا ہے کہ ان سے قرہ بن خالد نے بھی روایت کی ہے، اور ان دونوں (شیخین) نے متعدد ایسے ثقہ راویوں سے روایات لی ہیں جن کا صرف ایک ہی شاگرد ہوتا ہے، لہٰذا ان کے اصول کے مطابق اس جیسی حدیث کی تخریج بھی ان پر لازم آتی ہے، واللہ اعلم۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 16]
