العربية (الأصل)
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله الجَوهَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يوسف، حدثنا النَّضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة، حدثني أَبي: أنه كان مع رسول الله ﷺ إذ جاءه رجلٌ بفرس له يَقُودُها عَقُوقٍ، ومعها مُهْرة لها تتبعُها، فقال: من أنتَ؟ فقال:"أنا نبيٌّ" قال: ما نبيٌّ؟ قال:"رسولُ الله" قال: متى تقومُ الساعة؟ فقال رسول الله ﷺ:"غَيبٌ، ولا يعلمُ الغيبَ إِلَّا اللهُ" قال: أَرِني، سيفَك، فأعطاه النبيُّ ﷺ سيفَه، فهَزَّه الرجلُ ثم ردَّه عليه، فقال رسول الله ﷺ:"أمَا إنك لم تكن تستطيعُ الذي أردْتَ" قال:"وقد كان قال: أَذهبُ إليه فأسألُه(1)عن هذه الخِصَال"(2).هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، وقد اتفقا جميعًا على الحُجَّة بإياس بن سَلَمة عن أبيه، واحتجَّ مسلم بهذا الإسناد بعَينِه فحدَّث عن أحمد بن يوسف بغير حديثٍ.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 14 - على شرط مسلم
الترجمة الإنجليزية
Iyas ibn Salamah narrated from his father (Salamah ibn al-Akwa', may Allah be pleased with him) that he was with the Messenger of Allah (peace be upon him) when a man came leading a barren mare with a foal following behind. He asked: "Who are you?" He (peace be upon him) said: "I am a Prophet." The man asked: "What is a Prophet?" He said: "A Messenger of Allah." The man asked: "When will the Hour come?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "It is unseen, and none knows the unseen except Allah." The man said: "Show me your sword." So the Prophet (peace be upon him) gave him his sword. The man brandished it and then returned it, and the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, you would not have been able to carry out what you intended." The narrator mentioned that the man had previously said: "I will go to him and question him about these matters."
الترجمة الأردية
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے جب ایک شخص اپنی ایک بانجھ گھوڑی کو ہنکاتے ہوئے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا جس کے ساتھ اس کی ایک بچھڑی بھی پیچھے پیچھے چل رہی تھی، اس شخص نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نبی ہوں۔“اس نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ کا رسول۔“اس نے پوچھا: قیامت کب قائم ہوگی؟ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(یہ) غیب ہے، اور اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔“اس نے کہا: مجھے اپنی تلوار دکھائیے، چنانچہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے اپنی تلوار دے دی، اس شخص نے اسے (ہوا میں) لہرایا اور پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمکو واپس کر دی، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یاد رکھو! تم اس کام کی طاقت نہیں رکھتے تھے جس کا تم نے ارادہ کیا تھا (یعنی قتل کا)۔“راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے پاس جاؤں گا اور اس سے ان خصلتوں کے بارے میں سوال کروں گا۔یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا«اياس بن سلمه عن ابيه»سے احتجاج کرنے پر اتفاق ہے، اور امام مسلم نے بعینہ اسی سند سے احتجاج کرتے ہوئے احمد بن یوسف سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 14]
