الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah will say: 'O Adam!' He will reply: 'Here I am at Your service, all goodness is in Your hands.' Allah will say: 'Bring forth the people of the Fire.' Adam will ask: 'What is the proportion of the people of the Fire?' Allah will say: 'From every thousand, take out nine hundred and ninety-nine for the Fire.' At that time children will turn gray, and 'every pregnant woman will abort her pregnancy, and you will see people as if they are intoxicated while they are not, but the punishment of Allah is severe' [al-Hajj: 2]." This deeply distressed the companions. The Prophet said: "Rejoice — for Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog) are so numerous that for every one of you there will be a thousand of them. By the One in Whose hand is my soul, I hope that you will be one-quarter of the people of Paradise — then one-third — then half." He said: "Your likeness among the other nations is like a white hair on a black ox, or like a mark on the leg of a donkey."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے آدم! وہ کہیں گے کہ حاضر ہوں تیری خدمت میں اور تیری اطاعت میں اور سب بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ حکم ہو گا کہ دوزخیوں کی جماعت نکالو۔ وہ عرض کریں گے کہ دوزخیوں کی کیسی جماعت؟ حکم ہو گا کہ ہر ہزار آدمیوں میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کیلئے نکالو (اور ایک آدمی فی ہزار جنت میں جائے گا) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ یہی تو وقت ہے جب بچہ بوڑھا ہو جائے گا (بوجہ ہول اور خوف کے یا اس دن کی درازی کی وجہ سے)”اور ہر ایک پیٹ والی عورت اپنا پیٹ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ جیسے نشہ میں مست ہیں اور وہ مست نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے“(الحج: 2) صحابہ اس امر کے سننے سے بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! دیکھئیے اس ہزار میں سے ایک آدمی (جو جنتی ہے) ہم میں سے کون نکلتا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم خوش ہو جاؤ کہ یاجوج ماجوج کے کافر اس قدر ہیں کہ اگر ان کا حساب کرو تو تم میں سے ایک آدمی اور ان میں سے ہزار آدمی پڑیں۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ جنت کے ایک چوتھائی آدمی تم میں سے ہوں گے، اس پر ہم نے اللہ کی تعریف کی اور تکبیر کہی۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ جنت کے تہائی آدمی تم میں سے ہوں گے۔ اس پر ہم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور کبریائی بیان کی۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت کے آدھے آدمی تم میں سے ہوں گے۔ تمہاری مثال اور امتوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا ایک نشان گدھے کے پاؤں میں۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 103]
