العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى، رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُ الأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ وَهُوَ يَقُولُ جَاءَ الأَمِيرُ جَاءَ الأَمِيرُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Huraire reported that he saw a person whose lower garment bad been trailin. and he was striking the ground with his foot (conceitedly). He was the Amir of Bahrain and it was being said:Here comes the Amir, here comes the Amir. He (Hadrat Abu Huraira) reported that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Allah will not look toward him who trails his lower garment out of pride
الترجمة الأردية
عبید اللہ کے والد حضرت معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔
