العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ { رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} قَالَ " وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
الترجمة الإنجليزية
Yunus reported from Ibn Shihab al-Zuhri, from Abu Salamah ibn Abd al-Rahman and Sa'id ibn al-Musayyab, from Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him), that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: We have more right to doubt than Ibrahim (blessings and peace of Allah be upon him) when he said: 'My Lord, show me how You give life to the dead.' He (Allah) said: 'Do you not believe?' He said: 'Yes, but so that my heart may be at rest.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: And may Allah have mercy on Lut (blessings and peace of Allah be upon him) — he wished for a strong support, though he had already taken refuge in the strongest support. And had I remained in prison as long as Yusuf (blessings and peace of Allah be upon him) did, I would have responded to the one who called me. (In practice, he, blessings and peace of Allah be upon him, exercised even greater patience and forbearance than the other Prophets.)
الترجمة الأردية
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن اور سعید بن مسیب سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے عرض کیا تھا: 'اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟' اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 'کیا تمہیں یقین نہیں؟' عرض کیا: 'کیوں نہیں! لیکن (میں اس لیے جاننا چاہتا ہوں) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور اللہ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، (وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ اور اگر میں قید خانے میں حضرت یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو (ہو سکتا ہے) بلانے والے کی بات مان لیتا۔ (عملاً آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا۔)
