العربية (الأصل)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَوَجَدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا بِكِسَاءٍ أَسْوَدَ وَحده. فَقلت: يَا أَبَا ذَر ماهذه الْوَحْدَةُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السُّوءِ وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ وَإِمْلَاءُ الْخَيْر خيرٌ من السكوتِ والسكوتُ خيرٌ من إِملاءِ الشَّرّ»
الترجمة الإنجليزية
Aishah, may Allah be pleased with her, reported: The Messenger of Allah, peace be upon him, was never given the choice between two matters but that he chose the easier of the two, as long as it was not sinful. If it was sinful, he would be the farthest of all people from it.
الترجمة الأردية
عمران بن حطان ؒ بیان کرتے ہیں، میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں کالی چادر سے گوٹ مارے ہوئے مسجد میں اکیلے پایا تو میں نے کہا: ابوذر! یہ تنہائی کیسی؟ انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”بُرے ہم نشین سے تنہائی بہتر ہے اور نیک ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے اور اچھی بات تحریر کرنا خاموشی سے بہتر ہے جبکہ بُری بات تحریر کرنے سے خاموشی بہتر ہے۔“اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4864]
