العربية (الأصل)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بني النَّضيرِ وحرَّقَ وَلها يقولُ حسَّانٌ: وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُستَطيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ)
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Umar told that God’s Messenger cut down the palm-trees of the B. an-Nadir and burned them. On that Hassan says:The nobles of the B. Lu’ayy treated lightly a widely dispersed conflagration in al-Buwaira. Concerning that came down, “The palm-trees you cut down or left standing on their roots, it was by God’s permission” (Al-Quran 59:5). (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت کٹوائے اور جلوائے۔ اسی کے بارے میں حسان فرماتے ہیں: بنو لؤی کے سرداروں کو بویرہ میں پھیلتی ہوئی آگ کی کوئی پروا نہ تھی۔ اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا۔ (متفق علیہ)
