العربية (الأصل)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي الْجَرِيدَةَ الرَّطْبَةَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وجهِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الترجمة الإنجليزية
‘Abd ar-Rahman b. al-Azhar said:I can still picture myself looking at God’s Messenger when a man who had drunk wine was brought before him and he told the people to beat him. Some struck him with sandals, some with sticks and some with mitakhas. Ibn Wahb said this means green palm fronds. Then God’s Messenger took some dust from the ground and threw it in his face. Abu Dawud transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جب آپ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: اسے مارو۔ ان میں سے کسی نے جوتوں سے مارا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے میتخہ سے مارا۔ ابن وہب نے کہا: یعنی تازہ کھجور کی شاخ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اس کے چہرے پر ماری۔ (ابو داؤد)
