العربية (الأصل)
عَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يقْتله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَن قبيصَة بن دؤيب وَفِي أُخْرَى لَهُمَا وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ عَنْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةُ وَأَبُو هُرَيْرَة والشريد إِلَى قَوْله: «فَاقْتُلُوهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir reported the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) as saying, “Beat anyone who drinks wine, and if he does it a fourth time kill him.” He said that after that a man who had drunk wine four times was brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he beat him, but did not kill him. Tirmidhi transmitted it, and Abu Dawud transmitted it on the authority of Qablsa b. Dhu’aib. Another version by both of them and by Nasa’i, Ibn Majah and Darimi on the authority of some of the companions of God’s Messenger, including Ibn ‘Umar, Mu'awiya, Hadrat Abu Huraira and ash-Sharid, stops at “kill him.”* * This means that they gave only the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)’s words, and did not say anything about the man who was not killed.
الترجمة الأردية
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ، اگر چوتھی بار پھر پیے تو اسے قتل کرو۔ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، تو آپ نے اسے مارا لیکن قتل نہیں کیا۔ ترمذی نے اسے روایت کیا، اور ابو داؤد نے قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کیا۔ ایک اور روایت میں جو ان دونوں، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد صحابہ بشمول حضرت ابن عمر، حضرت معاویہ، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے نقل کی ہے، وہ 'اسے قتل کرو' تک ہے۔
