العربية (الأصل)
وَعَن وابصَةَ بن مَعْبدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدارمي
الترجمة الإنجليزية
Wabisa b. Ma'bad reported God’s Messenger as saying, “Have you come to ask about righteousness and sin, Wabisa?” When he replied that he had, he joined his fingers and striking his breast with them said, “Ask yourself for a decision, ask your heart for a decision (saying it three times). Righteousness is that with which the soul is tranquil and the heart is tranquil, but sin is that which rouses suspicion in the soul and is perplexing in the breast, even if people give you a decision in its favour.” Ahmad and Darimi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے وابصہ! تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور اپنے سینے پر ماریں اور فرمایا: اپنے نفس سے فتویٰ لے، اپنے دل سے فتویٰ لے (تین بار فرمایا)۔ نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل مطمئن ہو، اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور سینے میں تردد ہو، خواہ لوگ تجھے فتویٰ دے دیں۔ (احمد و دارمی)
