العربية (الأصل)
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Abbas said that he returned with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on the day of ‘Arafa, and when the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) heard the people behind him shouting loudly at their camels and beating them, he pointed his whip at them and said, “You people must preserve a quiet demeanour, for piety does not consist in going quickly.” Bukhari transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے شدید ڈانٹ ڈپٹ اور اونٹوں کو مارنے کی آواز سنی، تو آپ نے اپنا کوڑا ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! سکون سے چلو کیونکہ نیکی تیز چلنے میں نہیں ہے۔ (بخاری)
