العربية (الأصل)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كلِّ شيءٍ قديرٌ آيِبونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Umar said that when God’s messenger returned from an expedition, a hajj, or an ‘umra, on every rising piece of ground he would say three times, "God is most great." Then he would say, “There is no god but God alone who has no partner, to whom the dominion belongs, to whom praise is due, and who is omnipotent. We are returning repentant, serving, prostrating ourselves before our Lord, and expressing praise. God alone has verified His promise, helped His servant, and routed the Confederates.”* *The reference is to the siege of Medina in 5 A.H. when a trench was dug as a protection. (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب غزوے یا حج یا عمرے سے واپس آتے تو ہر بلند جگہ پر تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے، اپنے رب کی حمد کرنے والے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے احزاب کو شکست دی۔ (بخاری و مسلم)
