العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الأَسْلَمِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّمَا ذَلِكَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ طُوفِي .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Abu'z Hadrat Zubayr al-Makki that Abu Maiz al-Aslami Abdullah ibn Sufyan told him that once, when he was sitting with Abdullah ibn Umar, a woman came to ask him for an opinion. She said, "I set out intending to do tawaf of the House, but then, when I got to the gate of the Mosque, I started bleeding, so I went back until it had left me. Then I set out again, and then, when I got to the gate of the mosque, I started bleeding, so I went back until it had left me. Then I set off again, and then, when I got to the gate of the mosque, I started bleeding." Abdullah ibn Umar said, "That is only an impulse from Shaytan. Do ghusl, then bind your private parts with a cloth and do tawaf."
الترجمة الأردية
ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے ۔
