العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّ الرَّجُلَ، كَانَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا وَلاَ حَاجَةَ لَهُ بِهَا وَلاَ يُرِيدُ إِمْسَاكَهَا كَيْمَا يُطَوِّلَ بِذَلِكَ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ لِيُضَارَّهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلاَ تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ} يَعِظُهُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that Allah, the Blessed, the Exalted, sent down about a man who divorced his wife and then returned to her while he had no need of her and did not mean to keep her so as to make the idda period long for her by that in order to do her harm, "Do not retain them by force, to transgress. Whoever does that has wronged himself." (Sura 2 ayat 231). Allah warns them by that ayat.
الترجمة الأردية
ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ اگلے زمانہ میں لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیتے تھے پھر رجعت کر لیتے تھے اور ان کے رکھنے کی نیت نہ ہوتی تھی تاکہ ان کی عدت بٹھ جائے اور ان کو ضرر پہنچے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لئے مت روک رکھو جو ایسا کرے گا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ جو شخص نشے میں مست ہو اور طلاق دے اس کا کیا حکم ہے دونوں نے کہا کہ طلاق پڑ جائے گی اور وہ نشے میں مار ڈالے کسی کو تو مارا جائے گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے ۔ سعید بن مسیب کہتے تھے جب خاوند جورو کو نان نفقہ نہ دے سکے تو تفریق کر دی جائے گی ۔ کہا مالک نے میں نے اپنے شہر کے عالموں کو اسی پر پایا
