العربية (الأصل)
395 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، فَأُصِيبُوا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ، وَيَقُولُ: إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas: The Prophet (peace be upon him) sent an expedition called the Reciters. They were killed, and I never saw the Prophet (peace be upon him) as grieved over anything as he was over them. He made qunut for a month in the Fajr prayer, saying: "Indeed, Usayyah have disobeyed Allah and His Messenger."
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک مہم بھیجی جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا، ان سب کو شہید کر دیا گیا، میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا، چنانچہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے:«عَصِيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»”عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 395]
