العربية (الأصل)
394 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رضي الله عنه، عَنِ الْقُنُوتِ، قَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ فَقُلْتُ: إِنَّ فُلاَنًا يَزْعُمُ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فقال: كَذَبَ؛ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ(يَشُكُّ فِيهِ)مِنَ الْقُرَّاءِ إِلى أَنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَعَرَضَ لَهُمْ هؤُلاَءِ، فَقَتَلُوهُمْ؛ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas, from Asim: I asked Anas about the qunut. He said: "Before the ruku." I said: "So-and-so claims you said after the ruku." He said: "He is mistaken." Then he told us that the Prophet (peace be upon him) made qunut for a month after the ruku, supplicating against some clans of Banu Sulaym. He said: He had sent forty — or seventy, he was unsure — reciters to some polytheists, but they were ambushed and killed. There had been a treaty between them and the Prophet (peace be upon him). I never saw him as grieved over anyone as he was over them.
الترجمة الأردية
سیدنا عاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب (محمد بن سیرین) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ انہوں نے غلط کہا ہے، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی تھی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں قبیلہ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بد دعا کی تھی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت (راوی کو شک تھا) مشرکین کے پاس بھیجی تھی لیکن یہ بنی سلیم کے لوگ (جن کا سردار عامر بن طفیل تھا) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا حالانکہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ان کا معاہدہ تھا (لیکن انہوں نے دغا دی)، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپصلی اللہ علیہ وسلمرنجیدہ تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 394]
