العربية (الأصل)
259 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَيْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ؛ فَقَالُوا: هذَا وَاللهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ؛ فَقَالُوا:(يَا قوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إلى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا)فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ)وَإِنِّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas: The Prophet (peace be upon him) set out with a group of his Companions heading for the fair at Ukaz. The devils had been prevented from getting news from the heaven, and flames were hurled at them. The devils returned to their people, who asked: "What is the matter?" They said: "We have been prevented from getting news from heaven, and flames are hurled at us." They said: "Something must have happened." They spread out across the earth. Some of them came upon the Prophet (peace be upon him) and his Companions while they were praying Fajr at Nakhlah. When they heard the Quran, they listened to it and said: "This is what has prevented us from getting news from heaven." They returned to their people and said: "O our people, we have heard an amazing recitation that guides to the right way, and we believed in it."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمایک مرتبہ چند صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے، ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے (شہاب ثاقب) پھینکے جانے لگے تھے، تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور (جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے، اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا باعث ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمعکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے، جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دیے، پھر کہا: خدا کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہماری قوم!﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا﴾[سورة الجن: 1-2]”ہم نے ایک حیرت انگیز قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔“اس پر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمپر یہ آیت﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ﴾[سورة الجن: 1](آپ کہیے کہ مجھے وحی کا ذریعہ بتایا گیا ہے) نازل ہوئی اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 259]
