العربية (الأصل)
1772 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ، وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَكَانَ يَقُولُ: مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلاَّ مَا كَتَبْتُ لَهُ فَأَمَاتَهُ اللهُ، فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَقَالُوا: هذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ، نَبَشُوا عَنْ صَاحِبنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ، فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَقَالُوا: هذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ، وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الأَرْضِ، مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ قَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ، فَأَلْقَوْهُ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas: There was a Christian man who embraced Islam and read Surah al-Baqarah and Al Imran. He used to write for the Prophet (peace be upon him). Then he reverted to Christianity and used to say: "Muhammad knows nothing except what I wrote for him." Allah caused him to die, and they buried him. In the morning, the earth had cast him out. They said: "This is the doing of Muhammad and his companions — since he fled from them, they dug up our companion and threw him out." They dug for him and buried him deep. In the morning, the earth had cast him out again. They said the same thing. They dug for him and buried him as deep as they could. In the morning, the earth had cast him out. They then knew it was not the doing of people, so they left him.
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا، پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورہ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکا منشی بن گیا، لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلماور ان کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی، لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلماور ان کے ساتھیوں کا کام ہے، چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا، لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ یہ میت عذابِ خداوندی میں گرفتار ہے)، چنانچہ انہوں نے اسے یونہی (زمین) پر ڈال دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1772]
