العربية (الأصل)
1771 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ لِبَوَّابِهِ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرٍىءٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس: وَمَا لَكُمْ وَلِهذِهِ[ص:272]إِنَّمَا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَأَرَوْهُ أَنْ قَدِ اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا سَأَلَهُمْ وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ(وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ)كَذلِكَ، حَتَّى قَوْلِهِ(يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلوا)
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas, from Alqamah ibn Waqqas: Marwan said to his doorkeeper: "Go, O Rafi, to Ibn Abbas and say: 'If every person who rejoices in what he has been given and loves to be praised for what he has not done is punished, we would all be punished.'" Ibn Abbas said: "What do you have to do with this? The Prophet (peace be upon him) called the Jews and asked them about something. They concealed it from him and told him something else, showing that they deserved praise for what they told him about what he asked. And they rejoiced at what they had done in concealing it." Then Ibn Abbas recited: "And when Allah took a covenant from those who were given the Book..." up to His saying: "...rejoicing in what they have done and loving to be praised for what they did not do."
الترجمة الأردية
علقمہ بن وقاص نے بیان کیا کہ مروان بن حکم نے (جب وہ مدینہ کے امیر تھے) اپنے دربان سے کہا کہ رافع! ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں جاؤ اور ان سے پوچھو کہ آیت﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ﴾[سورة آل عمران: 188]کی رو سے تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیے، کیونکہ ہر ایک آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں، خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا نہیں اس پر بھی اس کی تعریف ہو۔ ابو رافع نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر پوچھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تم مسلمانوں سے اس روایت کا کیا تعلق! یہ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہودیوں کو بلایا تھا اور ان سے ایک دین کی بات پوچھی تھی۔ (جو ان کی آسمانی کتاب میں موجود تھی) انہوں نے اصل بات کو تو چھپایا اور دوسری غلط بات بیان کر دی، پھر بھی اس بات کے خواہشمند رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے سوال کے جواب میں جو کچھ انہوں نے بتایا ہے، اس پر ان کی تعریف کی جائے اور ادھر اصل حقیقت کو چھپا کر بھی بڑے خوش تھے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کی:﴿اللہ تعالیٰ نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے بیان کرتے رہا کرو اور اسے چھپاؤ نہیں پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا، ان کا یہ بیوپار بہت برا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھ، ان کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔﴾[سورة آل عمران: 187، 188][اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1771]
