Narrated Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them): When Abu Dharr heard of the mission of the Prophet (peace be upon him), he said to his brother, "Ride to this valley and find out about this man who claims to be a prophet receiving revelation from heaven. Listen to his words, then come back to me." His brother went, heard the Prophet's words, and returned. He told Abu Dharr, "I saw him commanding noble character, and his speech is not poetry." Abu Dharr said, "You have not satisfied me." He provisioned himself and took a water-skin and went to Makkah. He came to the mosque and sought the Prophet (peace be upon him) without knowing him, and he disliked asking about him. Night fell, and 'Ali saw him and recognized him as a stranger. He followed him home without either of them asking the other anything. The next morning Abu Dharr went to the mosque again but could not find the Prophet. That evening 'Ali passed by him again and said, "Has the time not come for this man to know his lodging?" He took him home again. On the third day, 'Ali asked him, "Will you not tell me what has brought you here?" Abu Dharr said, "If you give me a pledge to guide me, I will tell you." 'Ali gave the pledge, and Abu Dharr told him. 'Ali said, "It is true, and he is the Messenger of Allah. In the morning, follow me. If I see anything I fear for you, I will stand as if pouring water. If I continue, follow me until you enter where I enter." Abu Dharr did so and entered upon the Prophet (peace be upon him), heard his words, and embraced Islam immediately. The Prophet told him, "Go back to your people and inform them until my command reaches you." Abu Dharr said, "By the One in Whose Hand is my soul, I will proclaim it loudly among them!" He went to the mosque and called out at the top of his voice, "I bear witness that there is no god but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah." The people beat him until he fell. Al-'Abbas came, threw himself over him, and said, "Woe to you! Do you not know he is from Ghifar, and your trade route to Syria passes through their territory?" He thus rescued him. The next day Abu Dharr did the same, and again they beat him and al-'Abbas protected him.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا: مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے معلومات حاصل کر کے لا، اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں خود سنیں، پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی؛ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھری ہوئی ایک پرانی مشک ساتھ لی اور مکہ آئے، مسجد حرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجیے؛ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی مشک اور توشہ اٹھایا اور مسجد حرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا: کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری رہنمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں، اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا (کسی دیوار کے قریب) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچ گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے (تو پھر ہمارے پاس آ جانا)۔“ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمۂ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے یہاں سے واپس وہ مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا: افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے۔ اس طرح سے ان کو ان سے بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد حرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی۔ اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1607]
Narrated Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them): When Abu Dharr heard of the mission of the Prophet (peace be upon him), he said to his brother, "Ride to this valley and find out about this man who claims to be a prophet receiving revelation from heaven. Listen to his words, then come back to me." His brother went, heard the Prophet's words, and returned. He told Abu Dharr, "I saw him commanding noble character, and his speech is not poetry." Abu Dharr said, "You have not satisfied me." He provisioned himself and took a water-skin and went to Makkah. He came to the mosque and sought the Prophet (peace be upon him) without knowing him, and he disliked asking about him. Night fell, and 'Ali saw him and recognized him as a stranger. He followed him home without either of them asking the other anything. The next morning Abu Dharr went to the mosque again but could not find the Prophet. That evening 'Ali passed by him again and said, "Has the time not come for this man to know his lodging?" He took him home again. On the third day, 'Ali asked him, "Will you not tell me what has brought you here?" Abu Dharr said, "If you give me a pledge to guide me, I will tell you." 'Ali gave the pledge, and Abu Dharr told him. 'Ali said, "It is true, and he is the Messenger of Allah. In the morning, follow me. If I see anything I fear for you, I will stand as if pouring water. If I continue, follow me until you enter where I enter." Abu Dharr did so and entered upon the Prophet (peace be upon him), heard his words, and embraced Islam immediately. The Prophet told him, "Go back to your people and inform them until my command reaches you." Abu Dharr said, "By the One in Whose Hand is my soul, I will proclaim it loudly among them!" He went to the mosque and called out at the top of his voice, "I bear witness that there is no god but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah." The people beat him until he fell. Al-'Abbas came, threw himself over him, and said, "Woe to you! Do you not know he is from Ghifar, and your trade route to Syria passes through their territory?" He thus rescued him. The next day Abu Dharr did the same, and again they beat him and al-'Abbas protected him.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا: مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے معلومات حاصل کر کے لا، اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں خود سنیں، پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی؛ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھری ہوئی ایک پرانی مشک ساتھ لی اور مکہ آئے، مسجد حرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجیے؛ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی مشک اور توشہ اٹھایا اور مسجد حرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا: کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری رہنمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں، اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا (کسی دیوار کے قریب) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچ گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے (تو پھر ہمارے پاس آ جانا)۔“ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمۂ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے یہاں سے واپس وہ مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا: افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے۔ اس طرح سے ان کو ان سے بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد حرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی۔ اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1607]