العربية (الأصل)
1606 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي، يَوْمَ أُحُدٍ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِرَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقَالَ: مَنْ هذِهِ فَقَالُوا: ابْنَةُ عَمْرِو أَوْ أُخْتُ عَمْرِو، قَالَ: فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لاَ تَبْكِي، فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رفِعَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jabir ibn 'Abdullah (may Allah be pleased with them): My father's body was brought on the day of Uhud — he had been mutilated — and placed before the Messenger of Allah (peace be upon him), covered with a cloth. I went to uncover him, but my people prevented me. I tried again, and they prevented me. The Messenger of Allah (peace be upon him) ordered the body to be lifted. He heard the sound of a woman crying and asked, "Who is this?" They said, "The daughter (or sister) of 'Amr." He said, "Why does she cry? — or: Let her not cry — for the angels kept shading him with their wings until he was carried away."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کی لاش احد کے میدان سے لائی گئی، (مشرکوں نے) آپ کی صورت تک بگاڑ دی تھی۔ نعش رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے رکھی گئی، اوپر سے ایک کپڑا ڈھکا ہوا تھا، میں نے چاہا کہ کپڑے کو ہٹاؤں لیکن میری قوم نے مجھے روکا، پھر دوبارہ کپڑا ہٹانے کی کوشش کی، اس مرتبہ بھی میری قوم نے مجھ کو روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے جنازہ اٹھایا گیا، اس وقت کسی زور زور سے رونے والے کی آواز سنائی دی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”یہ کون ہے؟“لوگوں نے کہا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا (یہ کہا کہ) عمرو کی بہن ہیں (نام میں سفیان کو شک ہوا تھا)۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”روتی کیوں ہیں؟“یا یہ فرمایا:”روؤ نہیں کہ ملائکہ برابر اپنے پروں کا سایہ کیے رہے ہیں جب تک کہ اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1606]
