العربية (الأصل)
1595 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فَعَلِمْنَا بَعْدُ، أَنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَّقَةُ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ، وَكَانَتْ تُحِبُ الصَّدَقَةَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'A'ishah (may Allah be pleased with her): Some of the wives of the Prophet (peace be upon him) asked him, "Which of us will be the quickest to join you?" He said, "The one with the longest hand." So they took a reed and measured their hands, and Sawdah had the longest hand. Later we learned that "the longest hand" meant the most charitable, and she was the quickest of us to join him. She loved giving charity.
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی بعض بیویوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپصلی اللہ علیہ وسلمسے کون جا کر ملے گی؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔“اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں، ہم نے بعد میں (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر) سمجھا کہ لمبے ہاتھ سے ہونے والی سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی تھی اور وہ ہم میں سب سے پہلے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے جا کر ملیں، صدقہ کرنا انہیں بہت محبوب تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1595]
