العربية (الأصل)
1594 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ جَبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمِّ سَلَمَةَ: مَنْ هذَا قَالَ، قَالَتْ: هذَا دِحْيَةُ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with them): Jibril (Gabriel) came to the Prophet (peace be upon him) while Umm Salamah was with him. They conversed, then he left. The Prophet (peace be upon him) said to Umm Salamah, "Who is this?" — or words to that effect. She said, "This is Dihyah (al-Kalbi)." Umm Salamah said, "By Allah, I did not think it was anyone else until I heard the sermon of the Prophet (peace be upon him) informing about Jibril."
الترجمة الأردية
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب سیدنا جبریل علیہ السلام چلے گئے تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:”معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟“یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکا خطبہ سنا جس میں آپصلی اللہ علیہ وسلمسیدنا جبریل علیہ السلام (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1594]
