العربية (الأصل)
1523 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْئَلَةَ، فَغَضِبَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لاَ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُهُ لَكُمْ فَجَعَلتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لاَفٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لاَحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي قَالَ: حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that some people from the Companions of the Messenger of Allah said to the Prophet: "O Messenger of Allah, the wealthy have taken all the rewards. They pray as we pray, they fast as we fast, and they give charity from their surplus wealth." He said: "Has not Allah given you things with which you can give charity? Every tasbiha (SubhanAllah) is a charity, every takbirah (Allahu Akbar) is a charity, every tahmidah (Alhamdulillah) is a charity, every tahlilah (La ilaha illallah) is a charity, enjoining good is a charity, forbidding evil is a charity, and in the intimate relations of any one of you there is a charity." They said: "O Messenger of Allah, is there a reward for one of us fulfilling his desire?" He said: "Tell me, if he were to satisfy his desire in a forbidden manner, would there not be a sin upon him? Likewise, if he satisfies it in a lawful manner, he will have a reward."
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سوالات کیے اور جب بہت زیادہ سوالات کیے تو آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو ناگواری ہوئی، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلممنبر پر تشریف لائے اور فرمایا:”آج تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں بتاؤں گا۔“اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کپڑوں میں سر لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا:”یا رسول اللہ! میرے باپ کون ہیں؟“آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”حذافہ۔“اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:«رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍصلی اللہ علیہ وسلمرَسُولًا»”ہم اللہ سے راضی ہیں کہ وہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمدصلی اللہ علیہ وسلمسے کہ وہ سچے رسول ہیں،“«نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ»”ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”آج کی طرح خیر و شر کے معاملے میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1523]
