العربية (الأصل)
1522 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُطْبَةً، مَا سَمِعْت مِثْلَهَا قَطُّ قَالَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالَ: فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وُجُوهَهُمْ، لَهُمْ خَنِينٌ فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي قَالَ: فُلاَنٌ فَنَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ(لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ)
الترجمة الإنجليزية
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (peace be upon him) said to me: "Do not consider any act of kindness insignificant, even if it is meeting your brother with a cheerful face."
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“بیان کیا کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”فلاں۔“اس پر یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾[سورة المائدة: 101]”ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1522]
