العربية (الأصل)
1402 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، لِحَاجَتِهَا؛ وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً لاَ تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا؛ فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا سَوْدَةُ أَمَا وَاللهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَيْتِي، وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى، وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ: فَأَوْحى اللهُ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ، مَا وَضَعَهُ فَقَالَ: إِنَّه قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aisha: Sawdah went out after the hijab was imposed, to relieve herself. She was a large woman who was unmistakable to anyone who knew her. Umar ibn al-Khattab saw her and said: "O Sawdah, by Allah, you are not hidden from us. Consider how you go out." She turned back while the Messenger of Allah (peace be upon him) was in my house having dinner, with a bone in his hand. She entered and said: "O Messenger of Allah, I went out for a need, and Umar said such-and-such to me." Then Allah revealed to him, and when the revelation lifted — and the bone was still in his hand, he had not put it down — he said: "You have been given permission to go out for your needs."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اُمّ المومنین سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قضاء حاجت کے لیے نکلیں، وہ بہت بھاری بھرکم تھیں، جو انہیں جانتا تھا اس سے وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں۔ راستے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ! ہاں، خدا کی قسم! آپ ہم سے اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتیں، دیکھیے تو آپ کس طرح باہر نکلی ہیں۔ بیان کیا کہ سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا الٹے پاؤں وہاں سے واپس آ گئیں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس وقت میرے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے، آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے ہاتھ میں اس وقت گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا، یا رسول اللہ! میں قضاء حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ باتیں کیں، بیان کیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوئی، ہڈی اب بھی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں (اللہ کی طرف سے) قضاء حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1402]
