العربية (الأصل)
1281 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي، يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ، قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ قَالَ: اذْبَحْهَا، وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ
الترجمة الإنجليزية
Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) said: My maternal uncle, called Abu Burdah, sacrificed before the prayer. The Messenger of Allah (peace be upon him) said to him: "Your sheep is merely a sheep for meat." He said: "O Messenger of Allah, I have a young goat less than a year old from my domestic animals." The Prophet said: "Slaughter it, but it will not be acceptable for anyone after you." Then he said: "Whoever slaughtered before the prayer has only slaughtered for himself, and whoever slaughtered after the prayer has completed his ritual and followed the way of the Muslims."
الترجمة الأردية
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔“انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد (اس کی قربانی) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی۔“پھر فرمایا:”جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کے لیے جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اسی کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأضاحي/حدیث: 1281]
