العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أناعَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْيَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ إِذَا قُتِلَ أَنْ يُؤَدَّى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لا يُقَامُ عَلَى الْمُكَاتَبِ إِلا حَدُّ الْمَمْلُوكِ.
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ruled regarding a mukatab (contracted slave) who is killed: blood money proportionate to the degree of his freedom should be paid as the blood money of a free person. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) also said: Only the punishment of a slave is to be applied to a mukatab.
الترجمة الأردية
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فیصلہ فرمایا ہے: مکاتب (وہ غلام جس کا مالک سے معاہدہ ہو چکا ہو کہ وہ اتنی رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہو جائے گا) کو اگر قتل کر دیا جائے، تو جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے، اتنی دیت آزاد کی ادا کی جائے گی (اور جتنا غلام ہے اتنی غلام کی دیت ادا کی جائے گی) ابن عباس یہ فرماتے ہیں: مکاتب پر غلام والی حد لگائی جائے گی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 982]
