العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: ثَنَاابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِالأَعْمَشِ، عَنْمُسْلِمٍ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا أنزل آخِرُ الآيَاتِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الرِّبَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
الترجمة الإنجليزية
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: When the last verses of Surah al-Baqarah regarding usury were revealed, the Prophet (peace be upon him) went out and recited them to the people, then he prohibited trade in wine.
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات اتریں، جن میں سود کا ذکر ہے، تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمباہر نکلے اور لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی، پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 576]
