العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَايَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ثَنَاعِيَاضٌ، عَنْأَبِي سَعِيدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمْ نزل نُخْرِجُ الصَّدَقَةَ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ شَعِيرٍ، فَلَمْ نزل نُخْرِجُهُ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Mas'ud al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When a Muslim spends on his family, seeking Allah's reward, it is counted as charity for him."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے دور میں صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور، منقیٰ، پنیر، سُلت یا جو ادا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کے دو مد جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ چنانچہ لوگوں نے اس کے مطابق عمل شروع کر دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 357]
