العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثَنَاعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْجَابِرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ يُنْذِرُ جَيْشًا، يَقُولُ:" صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ". وَيَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى". وَيَقُولُ: أَمَا بَعْدُ،" فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ". ثُمَّ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالا فَلأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) delivered a sermon, his eyes would turn red, his voice would rise, and his anger would intensify, as if he were warning of an approaching army, saying: "It will attack you in the morning or the evening." He would hold his index and middle fingers together and say: "I and the Hour have been sent like these two." Then he would say: "To proceed: The best speech is the Book of Allah, the best guidance is the guidance of Muhammad, and the worst of affairs are newly invented matters, and every innovation is misguidance." Then he would say: "I am closer to every believer than his own self. Whoever leaves behind wealth, it is for his family. Whoever leaves behind debt or dependents, they are my responsibility."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب خطبہ دیتے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ بڑھ جاتا، گویا کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ابھی صبح یا شام وہ تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، آپ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا: مجھے اور قیامت کو یوں (اکٹھا) بھیجا گیا ہے۔ نیز فرماتے: حمد وثنا کے بعد! بہترین بات اللہ تعالی کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ نبی (کریمصلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے، سب سے برے کام (دین میں) نئے کام ہیں، ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے: میں ہر مؤمن کا اس کی جان سے بھی زیادہ دوست ہوں۔ جو مؤمن مال چھوڑ کر فوت ہو، تو وہ مال اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا بچے چھوڑ جائے، تو وہ میرے حوالے ہیں اور قرض میرے ذمہ ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
