العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَةً» فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا بِلَالٌ ثُمَّ مَرَرْتُ بِقَصْرٍ مُشَيَّدٍ بَدِيعٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ فَقُلْتُ أَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ « فَقَالَ لِبِلَالٍ » بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ «؟ قَالَ مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَمَا تَوَضَّأْتُ إِلَّا صَلَّيْتُ وَقَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ » لَوْلَا غَيْرَتُكَ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ « فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ عَلَيْكَ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Buraydah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whenever I entered Paradise, I heard a rustling sound. I asked: 'Who is this?' They said: 'Bilal.' Then I passed by a lofty, magnificent palace and asked: 'Whose is this?' They said: 'For a man from the Ummah of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him).' I said: 'I am Muhammad — whose is this palace?' They said: 'For a man from the Arabs.' I said: 'I am an Arab — whose is this palace?' They said: 'For Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him).'" He then said to Bilal: "How did you surpass me to Paradise?" Bilal said: I never broke my ablution except that I performed a new one, and I never performed ablution except that I prayed. He said to Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him): "Were it not for your sense of honor, I would have entered the palace." Umar said: O Messenger of Allah, I would not have felt any jealousy toward you.
الترجمة الأردية
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب بھی میں جنت میں داخل ہوا مجھے آہٹ سنائی دی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: بلال۔ پھر میں ایک بلند خوبصورت محل کے پاس سے گزرا۔ پوچھا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا: عرب کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں عربی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا: عمر بن خطاب کا۔" پھر بلال سے فرمایا: "تم مجھ سے پہلے جنت میں کیسے پہنچ گئے؟" بلال نے کہا: میں نے جب بھی وضو ٹوٹا تو نیا وضو کیا اور جب بھی وضو کیا تو نماز پڑھی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: "اگر تمہاری غیرت نہ ہوتی تو میں محل میں داخل ہو جاتا۔" عمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر غیرت نہ کرتا۔
