العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ إِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا خَلَقَ النَّاسَ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَخَذَ نُورًا مِنْ نُورِهِ فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَصَابَ مَنْ شَاءَ وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ وَقَدْ عَلِمَ مَنْ يُخْطِئُهُ مِمَّنْ يُصِيبُهُ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ شَيْءٌ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ فَقَدْ ضَلَّ»؛ فَفِي ذَلِكَ مَا أَقُولُ إِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn al-Daylami narrated: I said to 'Abdullah ibn 'Amr: "It has reached me that you say the pen has already dried." He said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "Indeed Allah, Mighty and Sublime, created people in darkness, then He took light from His light and cast it upon them. It reached whom He willed and missed whom He willed. He already knew who would miss it and who would receive it." So whoever that light reached was guided, and whoever it missed went astray. That is why I say the pen has already dried.
الترجمة الأردية
عبد اللہ بن دیلمی سے روایت ہے: میں نے عبد اللہ بن عمرو سے کہا: "مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کہتے ہیں قلم خشک ہو چکا ہے۔" انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: "بے شک اللہ جل و علا نے لوگوں کو اندھیرے میں پیدا فرمایا پھر اپنے نور سے نور لیا اور ان پر ڈالا۔ جسے چاہا پہنچایا اور جسے چاہا نہ پہنچایا۔ اسے پہلے سے معلوم تھا کس سے چوکے گا اور کس کو پہنچے گا۔" تو جس تک نور پہنچا وہ ہدایت پا گیا اور جس سے چوکا وہ گمراہ ہو گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں قلم خشک ہو چکا ہے۔
