العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْفَهَانِيُّ ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ وَدِدْتُ أَنَّ أَهْلِي حِينَ تَعَشَّوْا عَشَاءَهُمْ وَاغْتَبَقُوا غَبُوقَهُمْ أَصْبَحُوا مَوْتَى عَلَى فُرُشِهِمْ قِيلَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَلَسْتَ عَلَى غِنًى؟ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ يُوشِكُ يَا ابْنَ أَخِي إِنْ عِشْتَ إِلَى قَرِيبٍ أَنْ تَرَى الرَّجُلَ يُغْبَطَ بِخِفَّةِ الْحَالِ كَمَا يُغْبَطُ الْيَوْمَ أَبُو الْعَشَرَةِ الرِّجَالِ وَيُوشِكُ إِنْ عِشْتَ إِلَى قَرِيبٍ أَنْ تَرَى الرَّجُلَ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ السُّلْطَانُ وَلَا يُدْنِيهُ وَلَا يُكْرِمُهُ يُغْبَطُ كَمَا يُغْبَطُ الْيَوْمَ الَّذِي يَعْرِفُهُ السُّلْطَانُ وَيُدْنِيهِ وَيُكْرِمُهُ وَيُوشِكُ يَا ابْنَ أَخِي إِنْ عِشْتَ إِلَى قَرِيبٍ أَنْ يَمُرَّ بِالْجَنَازَةِ فِي السُّوقِ فَيَرْفَعُ الرَّجُلُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي عَلَى أَعْوَادِهَا قَالَ قُلْتُ تَدْرِي مَا بِهِمْ؟ قَالَ «عَلَى مَا كَانَ» قُلْتُ إِنَّ ذَلِكَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ عَظِيمٍ قَالَ «أَجَلْ عَظِيمٌ عَظِيمٌ عَظِيمٌ»
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn al-Samit narrated: I wish that when my family ate their supper and drank their evening milk, they would wake up dead on their beds. He was asked: "O Abu so-and-so, are you not in a state of comfort?" He said: Indeed, but I heard Hadrat Abu Dharr (may Allah be well pleased with him) say: "O nephew, if you live a little longer, you will soon see a man envied for having little possessions just as the father of ten sons is envied today. And you will soon see a man whom the ruler does not know, does not bring close, and does not honor, being envied just as the one whom the ruler knows, brings close, and honors is envied today. And O nephew, if you live a little longer, a funeral will pass through the market and a man will raise his head and say: 'I wish I were on its bier.'" He said: I asked: "Do you know what afflicts them?" He said: "Based on how things are." I said: "This is before a great matter." He said: "Yes, great, great, great."
الترجمة الأردية
عبداللہ بن صامت نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرے اہلِ خانہ جب رات کا کھانا کھائیں اور شام کا دودھ پئیں تو صبح اپنے بستروں پر مُردہ ہوں۔ اُن سے پوچھا گیا: ابوفلاں! کیا تم خوشحال نہیں ہو؟ فرمایا: ہاں، لیکن میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا: "بھتیجے! اگر تم تھوڑا اور جی لے تو عنقریب ایسا شخص دیکھو گے جسے اُس کی قلّت حال پر رشک کیا جائے گا جیسے آج دس بیٹوں والے پر رشک کیا جاتا ہے۔ اور عنقریب ایسا شخص دیکھو گے جسے سلطان نہ جانتا ہو، نہ قریب کرتا ہو، نہ عزت دیتا ہو — اُس پر رشک کیا جائے گا جیسے آج اُس پر رشک کیا جاتا ہے جسے سلطان جانتا ہو، قریب کرتا ہو اور عزت دیتا ہو۔ اور بھتیجے! اگر تم تھوڑا اور جی لے تو بازار میں ایک جنازہ گزرے گا اور ایک شخص سر اُٹھا کر کہے گا: کاش میں اس کی چارپائی پر ہوتا۔" میں نے پوچھا: تمہیں معلوم ہے اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: "جو ہو رہا ہے اُس پر۔" میں نے کہا: یہ ایک بڑے معاملے سے پہلے ہے۔ فرمایا: "ہاں، بڑا بڑا بڑا۔"
