العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَرُومَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ «إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الْقَائِلُ فِيهِ بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ الصَّامِتِ وَالْقَائِمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَإِنَّ بَعْدَكُمْ زَمَانًا الصَّامِتُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ النَّاطِقِ وَالْقَاعِدُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ» قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ يَكُونُ أَمْرٌ مَنْ أَخَذَ بِهِ الْيَوْمَ كَانَ هُدًى وَمَنْ أَخَذَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ كَانَ ضَلَالَةً؟ قَالَ قَدْ فَعَلْتُمُوهُ اعْتَبِرُوا ذَلِكَ بِرَجُلَيْنِ مَرَّا بِقَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي فَأَنْكَرَا كِلَاهُمَا وَصَمَتَ أَحَدُكُمَا فَسَلِمَ وَتَكَلَّمَ الْآخَرُ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ وَتَفْعَلُونَ فَأَخَذُوهُ وَذَهَبُوا بِهِ إِلَى ذِي سُلْطَانِهِمْ فَلَمْ يَزَلْ أَوْ لَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخَذَ بِأَخْذِهِ وَعَمِلَ بِعَمَلِهِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) said: "You are in a time in which the one who speaks the truth is better than the one who stays silent, and the one who stands is better than the one who sits. After you will come a time in which the silent one is better than the speaker, and the one who sits is better than the one who stands." A man asked: O Abu Abdur Rahman, how can something that is guidance today become misguidance tomorrow? He said: You have already done it! Consider two men who pass by people engaged in sins — both disapprove, but one stays silent and is safe, while the other speaks and is taken to their authority and pressured until he joins them.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "تم ایسے زمانے میں ہو جس میں حق بولنے والا خاموش رہنے والے سے بہتر ہے اور کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہے۔ تمہارے بعد ایک زمانہ آئے گا جس میں خاموش رہنے والا بولنے والے سے بہتر ہو گا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا۔" ایک شخص نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آج جو ہدایت ہو کل گمراہی ہو؟ فرمایا: تم نے ایسا کر لیا ہے! دو آدمیوں کا خیال کرو جو گناہ کرنے والوں کے پاس سے گزریں — دونوں ناپسند کریں، ایک خاموش رہے اور بچ جائے، دوسرا بولے اور اسے ان کے حاکم کے پاس لے جائیں اور اس پر دباؤ ڈالتے رہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے۔
