العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَزِيدَ الْقَارِئُ الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَائِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا إِلَى الْقِصَاصِ مِنْ نَفْسِهِ فِي خَدْشَةٍ خَدَشَهَا أَعْرَابِيًّا لَمْ يَتَعَمَّدْهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ﷺ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْكَ جَبَّارًا وَلَا مُتَكَبِّرًا فَدَعَا النَّبِيُّ ﷺ الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ «اقْتَصَّ مِنِّي» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ قَدْ أَحْلَلْتُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَمَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ أَبَدًا وَلَوْ أَتَيْتَ عَلَى نَفْسِي فَدَعَا لَهُ بِخَيْرٍ قَالَ الْحَاكِمُ «تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ثِقَةٌ» قال ابن عدي أحمد بن عبيد صدوق له مناكير ومحمد ضعيف
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Habib ibn Maslamah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called for retaliation from himself for a scratch he had accidentally inflicted on a Bedouin. Jibril (upon him be peace) came to him and said: "O Muhammad, indeed Allah did not send you as a tyrant nor as an arrogant one." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) called the Bedouin and said: "Take retaliation from me." The Bedouin said: "I have released you, may my father and mother be your ransom. I would never do that even if it cost me my life." So he supplicated for him with good. Al-Hakim said: Ahmad ibn Ubayd narrated this uniquely from Muhammad ibn Mus'ab, who is trustworthy. Ibn Adi said: Ahmad ibn Ubayd is truthful but has objectionable narrations, and Muhammad is weak.
الترجمة الأردية
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خراش کی وجہ سے اپنے آپ سے قصاص کی دعوت دی جو آپ نے ایک اعرابی کو بلا ارادہ لگائی تھی۔ جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا: اے محمد! بے شک اللہ نے آپ کو جبّار اور متکبر بنا کر نہیں بھیجا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اعرابی کو بلایا اور فرمایا: «مجھ سے قصاص لے لو۔» اعرابی نے کہا: میں نے آپ کو معاف کر دیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا چاہے میری جان ہی چلی جائے۔ تو آپ نے اس کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔ حاکم نے فرمایا: احمد بن عبید نے اسے محمد بن مصعب سے منفرد روایت کیا ہے اور محمد ثقہ ہیں۔ ابن عدی نے کہا: احمد بن عبید صدوق ہیں مگر منکر روایات ہیں اور محمد ضعیف ہیں۔
