العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي أَسْلَمُ الْكُوفِيُّ عَنْ مُرَّةَ الطِّيبِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَدَعَا بِشَرَابٍ فَأُتِيَ بِمَاءٍ وَعَسَلٍ فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْ فِيهِ بَكَى وَبَكَى حَتَّى أَبْكَى أَصْحَابَهُ فَسَكَتُوا وَمَا سَكَتَ ثُمَّ عَادَ فَبَكَى حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهُمْ لَنْ يَقْدِرُوا عَلَى مَسْأَلَتِهِ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ عَيْنَيْهِ فَقَالُوا يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا أَبْكَاكَ؟ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرَأَيْتُهُ يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ شَيْئًا وَلَمْ أَرَ مَعَهُ أَحَدًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الَّذِي تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ «هَذِهِ الدُّنْيَا مُثِّلَتْ لِي فَقُلْتُ لَهَا إِلَيْكِ عَنِّي ثُمَّ رَجَعَتْ فَقَالَتْ إِنْ أَفْلَتَّ مِنِّي فَلَنْ يَنْفَلِتَ مِنِّي مَنْ بَعْدَكَ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Zayd ibn Arqam (may Allah be well pleased with him) narrated: We were with Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him). He asked for a drink and was brought water and honey. When he brought it near his mouth, he wept and wept until he made his companions weep. They fell silent but he did not. Then he wept again until they thought they would not be able to ask him. Then he wiped his eyes. They asked: "O Khalifa of the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what made you weep?" He said: "I was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and I saw him pushing something away from himself, though I saw no one with him. I submitted: 'O Messenger of Allah, what is it that you are pushing away from yourself?' He stated: 'This is the worldly life. It presented itself to me, and I said to it: Away from me! Then it came back and said: If you escape from me, those after you will not escape from me.'"
الترجمة الأردية
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ہم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے مشروب منگوایا تو شہد ملا پانی لایا گیا۔ جب اسے اپنے منہ کے قریب لائے تو رو پڑے اور روتے رہے یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کو بھی رلا دیا۔ وہ خاموش ہو گئے لیکن آپ خاموش نہ ہوئے۔ پھر دوبارہ روئے یہاں تک کہ انہوں نے سمجھا کہ وہ آپ سے پوچھ نہیں سکیں گے۔ پھر آپ نے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو میں نے دیکھا کہ آپ اپنے آپ سے کچھ دور ہٹا رہے ہیں حالانکہ آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا دور ہٹا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: «یہ دنیا میرے سامنے آئی تو میں نے اسے کہا: مجھ سے دور ہو جا! پھر وہ لوٹی اور کہنے لگی: اگر تم مجھ سے بچ گئے تو تمہارے بعد والے مجھ سے نہیں بچیں گے۔»
