العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ فَقِيلَ مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ فَقَالَ «كُنَّا نُنَادِي أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ وَمُدَّةُ عَهْدِهِ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولَهُ وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ» فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) narrated: I was with Hadrat Ali ibn Abi Talib (may Allah ennoble his countenance) when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent him to the people of Mecca with [Surah] Bara'a. It was asked: What did you proclaim? He said: "We proclaimed that none shall enter Paradise except a believing soul, that none shall perform tawaf around the House unclothed, that whoever has a treaty with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), his term and the duration of his treaty shall be four months, and after these four months have passed, Allah and His Messenger are free from obligation to the polytheists, and no polytheist shall perform pilgrimage after this year." I kept proclaiming until my voice became hoarse. This hadith has a sound chain of transmission, though they [al-Bukhari and Muslim] did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اہلِ مکہ کی طرف سورۃ براءۃ کے ساتھ بھیجا۔ پوچھا گیا: تم کیا اعلان کرتے تھے؟ فرمایا: "ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا، کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے، جس کا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے، اور جب یہ چار مہینے گزر جائیں تو اللہ اور اس کے رسول مشرکوں سے بری ہیں، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے۔" میں اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
