العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَتْ «وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ ﷺ تِلْكَ الْغَدَاةَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا وَوَقَفَ عَلَى بَابِهَا وَأَنَّ فِي يَدِهِ لَحَمَامَةً مِنْ عِيدَانٍ كَانَتْ فِي الْكَعْبَةِ فَكَسَرَهَا فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى إِذَا كَانَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ رَمَى بِهَا» سكت عنه الذهبي في التلخيص «وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ ﷺ تِلْكَ الْغَدَاةَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا وَوَقَفَ عَلَى بَابِهَا وَأَنَّ فِي يَدِهِ لَحَمَامَةً مِنْ عِيدَانٍ كَانَتْ فِي الْكَعْبَةِ فَكَسَرَهَا فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى إِذَا كَانَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ رَمَى بِهَا» سكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us, Ahmad ibn Abd al-Jabbar narrated to us, Yunus ibn Bukayr narrated to us from Ibn Ishaq, Muhammad ibn Ja'far ibn al-Zubayr narrated to me from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Abi Thawr, from Hadrat Safiyyah bint Shaybah ibn Uthman (may Allah be well pleased with her) who said: 'By Allah, it is as though I can see the Beloved Prophet of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on that morning when he entered the Ka'bah, then came out of it and stood at its door. In his hand was a dove made of sticks that had been in the Ka'bah. He broke it, and came out with it until he was at the door of the Ka'bah, and then he threw it away.' Al-Dhahabi remained silent about it in al-Talkhis.
الترجمة الأردية
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا، احمد بن عبد الجبار نے ہم سے بیان کیا، یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے ہم سے بیان کیا، محمد بن جعفر بن الزبیر نے مجھ سے بیان کیا عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی ثور سے، وہ حضرت صفیہ بنت شیبہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: 'اللہ کی قسم! گویا میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس صبح دیکھ رہی ہوں جب آپ کعبہ میں داخل ہوئے، پھر اس سے باہر آئے اور اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے۔ آپ کے دستِ مبارک میں لکڑیوں کی ایک کبوتری تھی جو کعبہ میں تھی، آپ نے اسے توڑ دیا اور اسے لے کر نکلے یہاں تک کہ جب کعبہ کے دروازے پر آئے تو اسے پھینک دیا۔' امام ذہبی نے تلخیص میں اس پر سکوت فرمایا۔
