العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ عَنْ بَيَانٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ خَرَجْنَا نُرِيدُ الْعِرَاقَ فَمَشَى مَعَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى صِرَارٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ «أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟» قَالُوا نَعَمْ نَحْنُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَشَيْتَ مَعَنَا قَالَ «إِنَّكُمْ تَأْتُونَ أَهْلَ قَرْيَةٍ لَهُمْ دَوِيٌّ بِالْقُرْآنِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَلَا تَبْدُونَهُمْ بِالْأَحَادِيِثِ فَيَشْغَلُونَكُمْ جَرِّدُوا الْقُرْآنَ وَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَامْضُوا وَأَنَا شَرِيكُكُمْ» فَلَمَّا قَدِمَ قَرَظَةُ قَالُوا حَدَّثَنَا قَالَ نَهَانَا ابْنُ الْخَطَّابِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ لَهُ طُرُقٌ تُجْمَعُ وَيُذَاكَرُ بِهَا وَقَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ صَحَابِيٌّ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمِنْ شَرْطِنَا فِي الصَّحَابَةِ أَنْ لَا نَطْوِيهِمْ وَأَمَّا سَائِرُ رُوَاتِهِ فَقَدِ احْتَجَّا بِهِ» صحيح وله طرق
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Qarazah ibn Ka'b (may Allah be well pleased with him) narrated: We went out heading for Iraq, and Umar ibn al-Khattab walked with us to Sirar, performed ablution, then said: 'Do you know why I walked with you?' They said: 'Yes, we are Companions of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and you walked with us.' He said: 'You are going to the people of a village who hum with the Quran like the humming of bees. Do not begin with them with hadith, lest they distract you. Strip the Quran bare (i.e., focus on reciting it), minimize narrations from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and go — I am your partner in this.' When Qarazah arrived, they said: 'Narrate to us.' He said: 'Ibn al-Khattab forbade us.'
الترجمة الأردية
حضرت قرظہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ہم عراق کی طرف نکلے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرار تک ہمارے ساتھ چلے، وضو کیا پھر فرمایا: 'کیا تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیوں چلا ہوں؟' انہوں نے کہا: ہاں، ہم حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں اور آپ ہمارے ساتھ چلے۔ فرمایا: 'تم ایک ایسے گاؤں کے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے قرآن پڑھنے کی گونج شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی ہے۔ ان کے سامنے احادیث سے شروع نہ کرنا ورنہ وہ تمہیں مشغول کر دیں گے۔ قرآن کو سادہ بیان کرو اور حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کم کرو اور جاؤ، میں تمہارا شریک ہوں۔' جب حضرت قرظہ پہنچے تو لوگوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائیے۔ فرمایا: ابن الخطاب نے ہمیں منع کیا ہے۔
